روح کی گہرائیوں سے / From the Depths of the Soul Part-7
"معافی کی طاقت: زخم تحفہ بن گئے! 💫✨"
موسم بہار اپنی پوری رعنائی پر تھا، درخت نئے پتوں سے لدے ہوئے تھے، جیسے سعید اور حیا کے اندر نئی امیدیں پنپ رہی تھیں۔ مگر کتاب کا ساتواں باب انہیں ایک ایسی گہرائی میں لے جا رہا تھا جہاں موسم کا کوئی اثر نہ تھا۔
صفحے پر سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا:
"معافی کی طاقت: زخموں کو تحفے میں بدلنا۔ جو معاف کرتا ہے، وہ خود کو قید سے آزاد کرتا ہے۔"
حیا نے کتاب کو ہاتھوں میں لے کر کہا، اس کی آواز میں گہرا جذبات تھا: "سعید، میری ماں نے کہا تھا کہ یہ وہ باب ہے جو سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے، مگر سب سے زیادہ آزاد کرتا ہے۔"
پہلی مشق تھی: "معاف نہ کرنے کی فہرست بناؤ۔"
سعید کی فہرست:
۱. خود کو: اپنی ماں کو بچانے میں ناکام ہونے پر
۲. والد کو: اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نہ سمجھنے پر
۳. خود کو : اپنے آپ کو مصنف نہ بننے دینے پر
حیا کی فہرست:
۱. والد کو: گھر چھوڑ کر جانے پر
۲. ماں کو: اسے ہمیشہ مضبوط رہنے پر مجبور کرنے پر
۳. خود کو: اپنے جذبات کو دبانے پر
۴. سعید کو: اس قدر پسند کرنے پر کہ اس کے چلے جانے کا ڈر پیدا ہوگیا
دوسرا قدم تھا: "ہر نام کے ساتھ درد کی ڈگری لکھو۔"
سعید نے محسوس کیا کہ سب سے زیادہ درد اس نے خود کو دیا تھا۔ "میں نے خود کو سب سے زیادہ تکلیف دی ہے۔"
حیا نے اپنی فہرست دیکھتے ہوئے کہا: "مجھے اپنے والد سے زیادہ درد نہیں، مگر میں نے اس درد کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا ہے۔"
تیسری سرگرمی: "معاف کرنے کی مشق: خط لکھو مگر نہ بھیجو۔"
کتاب نے وضاحت کی: "معافی کا مطلب ہے: 'میں تمہارے زخم کو اپنے اندر مزید نہیں رکھنا چاہتا۔'"
سعید نے خود کو خط لکھا:
Pure & Pure Alkaline Water
کھارے اور میٹھے پانی کے لیے نیچر منرل واٹر پلانٹ
Free Installation in Karachi
"عزیز سعید،
میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ تمہیں معاف کرتا ہوں کہ تم نے اپنی ماں کو نہیں بچایا۔ تم صرف ایک بچے تھے۔ میں تمہیں معاف کرتا ہوں کہ تم نے خود کو مصنف نہ سمجھا۔ تم نے بہترین کام کیا جو تم کرسکتے تھے۔
آج سے، میں تم سے پیار کرتا ہوں، تمہاری تمام کمزوریوں، تمام خامیوں کے ساتھ۔"
حیا نے اپنے والد کو خط لکھا:
"ابا جان،
میں تمہیں معاف کرتی ہوں۔ میں تمہیں معاف کرتی ہوں کہ تم چلے گئے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تمہاری اپنی جنگ تھی۔ میں تمہارے درد کو اپنے اندر مزید نہیں رکھنا چاہتی۔
میں آزاد ہوں۔ تم بھی آزاد ہو۔"
چوتھی سرگرمی سب سے مشکل تھی: "معافی کی رسم۔"
کتاب نے کہا: "معافی کو جسمانی شکل دو۔ ایسا عمل کرو جو تمہاری آزادی کی علامت ہو۔"
سعید نے اپنی ماں کی قبر پر جانے کا فیصلہ کیا۔ سالوں بعد پہلی بار۔ حیا اس کے ساتھ تھی۔
قبرستان میں، سعید اپنی ماں کی قبر کے سامنے کھڑا تھا۔ ہوا میں خاموشی تھی۔ اس نے کہا: "ماں، میں تمہیں معاف کرتا ہوں کہ تم نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ تمہاری مرضی نہیں تھی۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔"
اور پھر، ایک عجیب بات ہوئی۔ ہوا کے ایک جھونکے نے درخت کے پتوں کو ہلایا، اور سعید کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی ماں نے جواب دیا ہو: "بیٹا، میں تمہیں معاف کرتی ہوں کہ تم نے مجھے بچایا نہیں۔ تم نے بہترین بیٹا ہونے کا فرض ادا کیا۔"
حیا نے اپنی رسم گھر پر ادا کی۔ اس نے اپنے والد کی ایک پرانی تصویر نکالی، اور اس کے سامنے موم بتی روشن کی۔ "ابا، میں تمہیں معاف کرتی ہوں۔ تمہارے بغیر میری زندگی مکمل ہے۔ میں تمہیں برکت کی دعا دیتی ہوں۔"
ایک ہفتے بعد، ایک غیر متوقع واقعہ نے سب کچھ بدل دیا۔
سعید کے والد کی صحت بہتر ہوئی، اور انہوں نے سعید کو اپنے گھر بلایا۔ کمرے میں، پروفیسر احمد نے ایک پرانی الماری کھولی۔
"یہ تمہاری ماں کی چیزیں ہیں،"انہوں نے کہا تھا کہ جب تم بڑے ہوجاؤ، تو یہ تمہیں دے دوں۔"
الماری میں تین چیزیں تھیں:
۱. ایک پرانی ڈائری
۲. ایک قلم
۳. ایک خط
سعید نے خط کھولا۔ اس کی ماں کی لکھی ہوئی آخری تحریر تھی:
"میرے پیارے بیٹے،
اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو، تو میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں۔ مگر جان لو کہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔
میں تمہیں معاف کرتی ہوں اگر تم نے خود کو میرے جانے کا ذمہ دار سمجھا۔ تم ذمہ دار نہیں تھے۔
اور ایک بات: تمہارے ابا کو معاف کردینا۔ وہ تمہیں پیار کرتے ہیں، بس اپنے طریقے سے۔
تمہاری ماں"
سعید رو پڑا۔ سالوں کے غم، غصہ، اور تکلیف اس کے آنسوؤں کے ساتھ بہہ گئے۔ اس کے والد نے اسے گلے لگایا۔ پہلی بار۔
"معافی نے ہمیں جوڑ دیا،" سعید نے حیا سے کہا،"میں نے سمجھا: معافی دراصل خود کو ہلکا کرنے کا نام ہے۔"
کتاب کا آخری صفحہ کھلا۔ اس پر لکھا تھا:
"مبارک ہو! تم نے سب سے مشکل کام کرلیا۔ تم نے معاف کیا۔ اب تم حقیقی معنوں میں آزاد ہو۔"
"یاد رکھو: معافی کا مطلب بھولنا ہے۔اور وہ بھی درد کے بغیر۔"
نیچے اگلے باب کا اعلان تھا:
اگلے باب کا عنوان: "دوبارہ جنم: نئے سرے سے زندگی کی تعمیر۔"
حیا نے سعید کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ "ہم دونوں تبدیل ہوچکے ہیں۔"
سعید نے جواب دیا: "ہاں۔ اور اب ہم ایک نئی زندگی کی تعمیر کرسکتے ہیں۔"
اسی رات، سعید نے اپنے بلاگ پر لکھا:
"معافی کا مطلب یہ نہیں کہ جو ہوا وہ ٹھیک تھا۔ معافی کا مطلب یہ ہے کہ اب تم اسے اپنے ساتھ مزید نہیں لے جانا چاہتے۔ یہ ایک تحفہ ہے جو تم خود کو دیتے ہو۔
میں نے سیکھا: جب تک تم معاف نہیں کرتے، تم ماضی کے قیدی رہتے ہو۔ معاف کرو، اور آزاد ہوجاؤ۔"
(ساتواں باب ختم)
اگلے باب میں: سعید اور حیا سیکھیں گے کہ کیسے اپنی زندگی کو نئے سرے سے تعمیر کیا جاتا ہے، اور کیسے ماضی کے تجربات مستقبل کی طاقت بن سکتے ہیں۔
معافی کی طاقت، زخم شفا، نفسیاتی علاج، ذہنی آزادی، جذباتی صحت، خود کو معاف کرنا، اردو ناول، روحانی ترقی، پاکستانی ادب،
English translation
From the Depths of the Soul Part 7
"The Power of Forgiveness: Wounds Become Gifts! 💫✨"
Spring was in full bloom, the trees were laden with new leaves, as if new hopes were sprouting within Saeed and Haya. But the seventh chapter of the book was taking them deeper into the depths where the weather had no effect.
The page was written in gold ink:
"The Power of Forgiveness: Turning Wounds into Gifts. He who forgives, is freed from captivity."
Haya took the book in her hand and said, her voice filled with deep emotion: "Saeed, my mother said that this is the chapter that hurts the most, but also frees the most."
The first exercise was: "Make a list of what not to forgive."
The book instructed: "First, acknowledge all the people and events that you could not forgive."
Saeed's list:
1. To himself: For failing to save his mother
2. To his father: For not understanding his creative potential
3. To himself: For not allowing himself to be a writer
Haya's list:
1. To his father: For leaving home
2. To his mother: For always forcing him to be strong
3. To himself: For suppressing his emotions
4. To Saeed: For loving her so much that he was afraid of her leaving.
The second step was: "Write the degree of pain next to each name."
Saeed realized that he had hurt himself the most. "I have hurt myself the most."
Haya looked at her list and said: "I don't hurt my father more, but I have made this pain the center of my life."
Activity Three: "Forgiveness Practice: Write a letter but don't send it."
The book explained: "Forgiveness means: 'I don't want to keep your wound inside me anymore.'"
Saeed wrote a letter to himself:
"Dear Saeed!
I forgive you. I forgive you for not being able to save your mother. You were just a child. I forgive you for not considering yourself a writer. You did your best.
From today, I love you, with all your weaknesses, with all your flaws."
Haya wrote to her father:
"Dad,
I forgive you. I forgive you for leaving me. I understand that you had your own fight. I don't want to keep your pain inside me anymore.
I am free. You are free too."
The fourth activity was the most difficult: "The ritual of forgiveness."
Saeed decided to visit his mother's grave. For the first time in years. Haya was with him.
In the cemetery, Saeed stood in front of his mother's grave. There was silence in the air. He said: "Mom, I forgive you for leaving me. I understand that you didn't want to. I love you."
And then, something strange happened. A gust of wind stirred the leaves of the tree and Saeed felt as if his mother had replied: "Son, I forgive you for not saving me. You did your duty as a good son.”
Haya performed her ritual at home. She took out an old photo of her father, and lit a candle in front of it. “Father, I forgive you. My life is complete without you. I pray for you.”
A week later, an unexpected event changed everything.
When Saeed’s father got better, he invited Saeed to his house. In the room, Professor Ahmed opened an old cupboard.
“These are your mother’s things,” he said. “I will give them to you when you grow up.”
There were three things in the cupboard.
1. An old diary
2. A pen
3. A letter
Saeed opened the letter. The last thing his mother had written was:
“My dear son,
If you are reading this letter, I am not with you. But know that I am always with you.
If you felt responsible for my departure, I forgive you. You were not responsible.
And one more thing: forgive your father. He loves you, only in his own way.
Your mother"
Saeed cried. Years of grief, anger, and pain flowed from his tears. His father hugged him. For the first time.
"Forgiveness brought us together," Saeed told Haya, "I understood: forgiveness is actually the name of making yourself lighter."
The last page of the book opened. On it was written:
"Congratulations! You have done the hardest thing. You have forgiven. Now you are truly free."
"Remember: to forgive is to forget. And that too without pain."
Below was the announcement of the next chapter:
The next chapter is titled: "Rebirth: Building a New Life."
Haya looked at Saeed, her eyes shining. "We have both changed."
Saeed replied: "Yes. And now we can build a new life."
That same night Saeed wrote on his blog:
"Forgiveness doesn't mean that what happened was right. Forgiveness means that you don't want to keep it with you anymore. It is a gift you give yourself.
I learned: Until you forgive, you are a prisoner of the past. Forgive, and be free."
(End of Chapter 7)
In the next chapter: Saeed and Haya will learn how to rebuild their lives, and how past experiences can become the strength of the future.
The Power of Forgiveness, Healing Wounds, Psychotherapy, Mental Freedom, Emotional Health, Forgiving Yourself, Urdu Novel, Spiritual Development, Pakistani Literature,

Post a Comment
Post a Comment
"We love hearing from you! Please keep comments respectful and on-topic. 😊"