جیسی کرنی ویسی بھرنی
غرور، بے حسی اور مکافاتِ عمل کی ایک سبق آموز کہانی — جو دل کو جھنجھوڑ دے گی
وقت گزرتا گیا۔ جاوید صاحب کا کاروبار پھلتا پھولتا رہا۔ مگر اس دولت کے ساتھ ان کا دل سخت ہوتا گیا۔ وہ نوکروں کو معمولی غلطی پر گالیاں دیتے، غریبوں کو دروازے سے لوٹا دیتے، اور اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ بھی سختی سے پیش آتے۔ والد اکثر خاموشی سے کہہ دیتے، “بیٹا! یاد رکھ، دنیا مکافاتِ عمل ہے، جو کرو گے وہی پاؤ گے۔” مگر جاوید ہنستے ہوئے کہتا، “ابا جی! یہ باتیں کتابوں کی ہیں، حقیقت نہیں۔”
سالوں بعد جاوید کے والدین دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کسی نے ان کے جنازے پر آنسو نہیں بہائے سوائے ان کی بوڑھی ماں کی قبر پر اگنے والے گھاس کے۔ جاوید کا دل ذرا بھی نرم نہ ہوا۔
وقت کا پہیہ چلتا گیا۔ احمد بڑا ہو گیا، اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک چلا گیا۔ جاوید کی بیوی بھی مسلسل لاپرواہی اور اکیلے پن سے بیمار رہنے لگی۔ جاوید اب عمر کے اس حصے میں داخل ہو چکا تھا جہاں دوست کم، یادیں زیادہ ہوتی ہیں۔
ایک دن دفتر میں بیٹھے وہ سوچنے لگا کہ بیٹے کو خط لکھے، مگر دل میں غرور تھا — “میں نے تو سب کچھ خود بنایا ہے، کسی کی ضرورت نہیں۔” لیکن جب بیماری نے اسے بستر پر گرا دیا، تو احساس ہوا کہ دولت انسان کا ساتھ نہیں دیتی۔ بیٹا فون پر کہتا، “ابا! آپ اپنا علاج کسی اچھے اسپتال میں کروالیں، میں مصروف ہوں، آ نہیں سکتا۔”
جاوید کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے اللہ سے توبہ کی اور دل میں فیصلہ کیا کہ اپنی بقیہ زندگی لوگوں کی خدمت میں گزارے گا۔ اس نے غریب بچوں کے لیے مدرسہ کھولا، یتیموں کے لیے کپڑے اور کھانا فراہم کیا، اور اپنے نوکروں سے نرمی سے بات کرنا شروع کی۔
چند سالوں بعد جب جاوید کا انتقال ہوا تو پورا محلہ اس کے جنازے میں شریک تھا۔ مسجد کے امام نے کہا، “یہ
وہ شخص تھا جس نے زندگی کے آخری حصے میں اپنے دل کو بدل لیا۔”
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دولت اور غرور وقتی ہیں، مگر رشتوں میں نرمی اور والدین کا احترام دیرپا سکون دیتے ہیں۔ جذباتی بے حسی نہ صرف دوسروں کو تکلیف دیتی ہے بلکہ بالآخر انسان خود تنہائی اور پچھتاوے کا شکار ہو جاتا ہے۔ توبہ اور خدمتِ خلق دل کو دوبارہ سکون بخش سکتے ہیں۔

Post a Comment
Post a Comment
"We love hearing from you! Please keep comments respectful and on-topic. 😊"