"Love Across Time"


وقت کے پار محبت/ Love Across Time


زید ایک نوجوان اینٹیک کولیکٹر تھا جو پرانی چیزوں میں گم شدہ کہانیاں ڈھونڈتا رہتا تھا۔ ایک بار اسے ایک پرانی ہوٹل کی نیلامی میں ایک اینٹک گھڑی ملی۔ گھڑی کے پیچھے ایک چھوٹا سا پیغام کندہ تھا:

"ہر ٹک ٹاک تمہاری طرف لے جا رہی ہے۔ - 1922"

گھڑی گھر لاتے ہی عجیب واقعات ہونے لگے۔ زید کو محسوس ہوتا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ ایک شام، جب گھڑی کی سوئیاں ٹھیک آدھی رات پر ملیں، تو کمرے کی ہوا میں ایک خوشبو پھیل گئی - پرانی گلابوں کی پتیوں جیسی۔


 خوابوں میں زندگی

اسی رات زید نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ وہ 1922 کے لاہور کے گلی کوچوں میں تھا۔ ہوٹل وکٹوریہ کے سامنے ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی، جس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا انتظار تھا۔ وہ زید کو دیکھ کر مسکرائی، جیسے وہ اسے پہچانتی ہو۔

یہ خواب ہر رات دہرایا جانے لگا۔ ہر بار وہ لڑکی - جس کا نام حبیبہ تھا - زید کے قریب آتی۔ وہ 1922 میں رہتی تھی، مگر اسے مستقبل کا علم تھا۔


وقت کی دیوار کے پار

ایک رات، گھڑی کی ٹک ٹاک کے درمیان زید نے حبیبہ کی آواز سنی

"تم مجھے کیوں ڈھونڈ رہے ہو؟"

حیران زید نے پوچھا: "تم مجھے کیسے جانتی ہو؟"

حبیبہ نے جواب دیا: "کیونکہ میں نے تمہارا انتظار کیا ہے۔ وقت ہمیشہ ایک سیدھی لکیر نہیں ہوتا۔"

آہستہ آہستہ، وہ گھڑی کے ذریعے بات کرنے لگے۔ حبیبہ نے بتایا کہ وہ ایک مصورہ تھی جو وقت کے سفر کے راز جانتی تھی۔ اس نے 1922 میں ہی زید کی تصویر بنائی تھی، جو اس نے اپنے خوابوں میں دیکھا تھا۔


محبت کا آغاز

دن گزرتے گئے۔ زید حبیبہ کے ساتھ محبت میں گرتا گیا۔ وہ اسے 1922 کے لاہور کی سیر کراتی - انارکلی بازار کی رونقیں، بادشاہی مسجد کی شام کی عبادتیں، دریائے راوی پر ڈوبتے سورج کے منظر۔

مگر ایک مسئلہ تھا - وہ ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے تھے۔ جب بھی زید ہاتھ بڑھاتا، حبیبہ دھوئیں کی مانند تحلیل ہو جاتی۔


 وقت کا چیلنج

حبیبہ نے وضاحت کی: وقت ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنے نہیں دے گا۔ ہم دو مختلف زمانوں میں زندہ ہیں۔

مگر زید نے ہار نہ مانی۔ اس نے پرانی کتابوں سے وقت کے سفر کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ آخرکار اسے ایک پرانا قلم ملا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ محبت کی طاقت سے وقت کی دیوار توڑ سکتا ہے۔


 قربانی کا دن

قلم استعمال کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا - زید کو اپنی یادوں کا کچھ حصہ قربان کرنا تھا۔ اس نے اپنی سب سے پیاری یاد - اپنے بچپن کی یادوں  - کو قربان کر دیا۔

جیسے ہی قلم نے کام کیا، کمرے میں روشنی کی چمک دیکھی گئی۔ حبیبہ حقیقی دنیا میں کھڑی تھی۔ وہ آخرکار ایک دوسرے کو چھو سکتے تھے۔


مختصر ملاقات

مگر خوشی لمبی نہ تھی۔ وقت نے خود کو درست کرنا تھا۔ حبیبہ بتانے لگی:"میں صرف ایک گھنٹے کے لیے تمہارے زمانے میں رہ سکتی ہوں۔ پھر مجھے واپس جانا ہوگا۔"

انہوں نے اس ایک گھنٹے میں ایک پوری زندگی جی لی۔ ہنستے ہوئے، روتے ہوئے، اور وہ سب کچھ کہہ دیا جو وہ سالوں سے کہنا چاہتے تھے۔


ہمیشہ کے لیے الوداع

جب گھنٹہ ختم ہوا، حبیبہ نے زید کو ایک پرانا لکھا ہوا خط دیا

Free Installation in Karachi Best way to drink healthy water

"محبت وقت سے بڑی ہوتی ہے۔ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے دل میں زندہ رہیں گے۔"

حبیبہ واپس اپنے زمانے میں چلی گئی۔ زید کے پاس صرف وہ خط اور گھڑی رہ گئی۔


 محبت کی وراثت

زید نے اپنی باقی کی زندگی محبت کی کہانیاں لکھنے میں گزاری۔ ہر کہانی دراصل حبیبہ اور اس کی محبت کی داستان تھی۔

سالوں بعد جب زید کا انتقال ہوا، تو اس کے پوتے نے وہ گھڑی اور خط پایا۔ خط کے نیچے زید نے لکھا تھا

"محبت کبھی مرتی نہیں۔ وہ صفر زمانے میں سفر کرتی ہے۔"


آج بھی، جب کوئی اس گھڑی کو دیکھتا ہے، تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ دو دل اب بھی وقت کے پار ایک دوسرے سے محبت کر رہے ہیں۔


حتمی اقتباس

ہم دو مختلف زمانوں کے مسافر تھے

مگر محبت نے ہمیں ایک ہی منزل تک پہنچا دیا۔

تم ہمیشہ میری ہر سانس میں زندہ رہو گی،

کیونکہ محبت ہی وہ واحد سچ ہے جو وقت کو جھٹلا سکتا ہے۔



English translation




"Love Across Time"


A Mysterious Meeting

Zaid was a young antique collector who was always looking for lost stories in old things. Once he found an antique clock at an old hotel auction. On the back of the clock was a small message engraved:


"Every tick is leading to you. - 1922"

As soon as he brought the clock home, strange things started happening. Zaid felt like someone was watching him. One evening, when the clock's hands met at exactly midnight, a fragrance spread in the air of the room - like old rose petals.


Life in Dreams

That night, Zaid had a strange dream. He was in the streets of Lahore in 1922. A young girl was standing in front of the Victoria Hotel, with a strange look of anticipation in her eyes. She smiled at Zaid, as if she recognized him.

This dream began to repeat itself every night. Each time, the girl - whose name was Habiba - came closer to Zaid. She lived in 1922, but she knew the future.


Across the Wall of Time

One night, Zaid heard Habiba's voice amidst the ticking of the clock

"Why are you looking for me?"

Surprised, Zaid asked: "How do you know me?"

Habiba replied: "Because I have been waiting for you. Time is not always a straight line."

Slowly, they began to talk through the clock. Habiba explained that she was a painter who knew the secrets of time travel. She had painted Zaid's portrait in 1922, which he had seen in his dreams.


The Beginning of Love

Days passed. Zaid fell in love with Habiba. She would take him on a tour of Lahore in 1922 - the splendor of Anarkali Bazaar, the evening prayers at Badshahi Mosque, the sunset over the Ravi River.

But there was one problem - they could not touch each other. Whenever Zaid reached out his hand, Habiba would dissolve like smoke.


The Challenge of Time

Habiba explained: Time will not let us get close to each other. We live in two different eras.

But Zaid did not give up. He started reading about time travel in old books. Finally, he found an old pen, which was said to be able to break the wall of time with the power of love.


The Day of Sacrifice

There was only one way to use the pen - Zaid had to sacrifice a part of his memories. He sacrificed his dearest memory - his childhood memories.

As soon as the pen worked, a flash of light was seen in the room. Habiba was standing in the real world. They could finally touch each other.


A brief meeting

But the happiness did not last long. Time had to correct itself. Habiba began to say: "I can only stay in your time for an hour. Then I have to go back."

They lived a whole life in that one hour. Laughing, crying, and saying everything they had wanted to say for years.


Goodbye forever

When the hour was over, Habiba gave Zaid an old handwritten letter:

"Love is bigger than time. We will always live in each other's hearts."

Habiba went back to her own time. Zaid was left with only that letter and the watch.


A legacy of love

Zaid spent the rest of his life writing love stories. Each story was actually a story of Habiba and his love.

Years later, when Zaid passed away, his grandson found the watch and the letter. At the bottom of the letter, Zaid had written

"Love never dies. It travels in zero time."


Even today, when someone looks at that watch, they feel that two hearts are still loving each other across time.


Final Quote

We were travelers from two different eras

But love brought us to the same destination.

You will always live in my every breath,

Because love is the only truth that can deny time.


سچی کہانیاں، سبق آموز کہانیاں، ماضی کے اوراق، ماں کی ممتا، ماں، ماں کی محبت، جذباتی کہانی، قربانی،urdu blogs, urdu articles, urdu health posts, urdu information, urdu lifestyle, urdu wellness, urdu motivation, urdu writing, urdu knowledge, urdu education